عادی مجرم

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عادتاً جرم کرنے والا شخص، پیشہ ور مجرم۔ "یہ دونوں صاحب بہت رخصتیں لیتے ہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ عادی مجرم ہیں۔"      ( ١٩٢٦ء، خطوطِ عبدالحق، ١٣٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عادی' کے ساتھ عربی ہی سے مشتق اسم 'مجرم' لگانے سے مرکب 'عادی مجرم' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٢٦ء کو "خطوطِ عبدالحق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عادتاً جرم کرنے والا شخص، پیشہ ور مجرم۔ "یہ دونوں صاحب بہت رخصتیں لیتے ہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ عادی مجرم ہیں۔"      ( ١٩٢٦ء، خطوطِ عبدالحق، ١٣٧ )

جنس: مذکر